کراچی:سندھ میں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی ٹیوشن فیس میں من مانا 200 فیصد اضافے سے طالب علموں اور والدین کو شدید مالی پریشانیوں کا سامنا ہے۔
سال 2019 میں پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی ٹیوشن فیس 10 لاکھ روپے سالانہ مقرر کی گئی تھی، کالجوں نے 2 سال تک اس پر عمل درآمد کیا اور پھر اس کے بعد اچانک فیسوں میں غیر معمولی اور من مانا اضافہ کر دیا، اب نجی میڈیکل کالجوں میں 5 سال کے دوران ایم بی بی ایس کی تعلیم پر ایک کڑور سے ڈیڑھ کڑور روپے فیس کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں۔
فیس میں اضافے کے نتیجے میں طالب علموں اور ان کے والدین کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ 5 سال کے تعلیمی دورانیے میں کتابوں، ڈریسنگ، ٹرانسپورٹیشن اور یومیہ اخراجات پر 20 لاکھ روپے کی لاگت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے۔
دوسری جانب، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پرائیویٹ میڈیکل و ڈینٹل کالجوں کی جانب سے ٹیوشن فیس کی مد میں غیر معمولی، غیر اعلانیہ اور من مانے اضافے پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ سن 2019 سے 2021 تک ایم بی بی ایس کی سالانہ فیس 10 لاکھ روپے ٹیوشن فیس فکسڈ تھی، تاہم پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے ختم ہونے کے بعد پاکستان میڈیکل کونسل (PMC) نے ملک بھر کے میڈیکل کالجوں کو اے، بی اور سی کیٹیگری میں تقسیم کر دیا جس کے بعد ان کالجوں نے اپنی فیسیں ازخود طے کرنا شروع کر دی۔
اسی دوران PMC کے ختم ہونے کے بعد دوبارہ پی ایم ڈی سی بحال ہوگئی تھی جس کے بعد بھی تمام پرائیویٹ میڈیکل کالجز من مانی فیسں وصول کر رہے ہیں۔ کراچی میں اس وقت پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں 22لاکھ سے 27لاکھ روپے سالانہ ٹیوشن فیس کی مد میں وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ داخلہ فیس اس کے علاوہ ہوتی ہے اور بعض میڈیکل کالجوں میں ہر سال 10 سے 20 فیصد اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے۔
سرکاری میڈیکل کالجوں میں اوپن میرٹ پر آنے والے طالب علموں سے سالانہ 70ہزار روپے فیس لی جاتی ہے جس میں ہر سال 10فیصد اضافہ کیا جاتا ہے جبکہ ان سرکاری کالجوں میں سیلف فنانس کی سیٹوں پر سالانہ 4 سے 5 لاکھ روپے فیس مقرر ہے۔ کراچی میں ایک انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی فیس 18ہزار ڈالر سالانہ وصول کرتا اور اس طرح ایک طالب علم کو 5سال کی تعلیم مکمل کرنے پر 90ہزار ڈالر فیس ادا کرنا پرتی ہے جبکہ دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔
